Articles

The Day of Ashura


By Maulana Ali Raza Lilani
Date : Wednesday 24 Jun 2026

یومِ عاشورا کے اعمال

ماہِ محرم کی دسویں تاریخ، یعنی یومِ عاشورا، وہ عظیم اور دردناک دن ہے۔ جس میں حضرت امام حسین علیہ السلام، ان کے اہلِ بیت علیہم السلام اور باوفا اصحاب نے راہِ خدا میں عظیم قربانیاں پیش کیں۔ اہلِ بیت علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کے نزدیک یہ دن غم وحزن، مصیبت اور عزاداری کا دن ہے۔ اسی لیے روایات میں شیعانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو تاکید کی گئی ہے کہ اس دن دنیاوی مشاغل اور معاشی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کے بجائے ذکرِ مصیبتِ امام حسین علیہ السلام، گریہ وزاری، عزاداری اور اہلِ بیت علیہم السلام کے غم میں شریک ہونے کو ترجیح دیں۔

دنیاوی امور سے اجتناب

امام رضا علیہ السلام سے منقول روایت کے مطابق جو شخص عاشورا کے دن اپنی دنیاوی حاجات اور کاروبار کو ترک کرکے امام حسین علیہ السلام کی مصیبت میں مشغول ہو، اللہ تعالیٰ اس کی دنیا و آخرت کی حاجات پوری فرماتا ہے۔ اسی طرح اس دن کو خوشی، برکت یا ذخیرہ اندوزی کا دن قرار دینا سخت مذمت کا باعث بتایا گیا ہے۔

لہٰذا مستحب و آداب میں سےہے کہ:

  1. انسان دنیاوی کاروبار اور منفعت طلبی سے پرہیز کرے۔
  2. گھر کے لیے کسی چیز کا ذخیرہ نہ کرے۔
  3. مصیبتِ امام حسین علیہ السلام کو یاد کرے اور دوسروں کو بھی یاد دلائے۔
  4. مجالسِ عزا میں شرکت کرے۔
  5. قاتلانِ امام حسین علیہ السلام پر لعنت بھیجے۔
  6. اہلِ عزا کی طرح سادگی اختیار کرے۔

تعزیت کا مسنون جملہ

مؤمنین ایک دوسرے کو اس دن اس طرح تعزیت پیش کریں:

أَعْظَمَ اللهُ أُجُورَنَا بِمُصَابِنَا بِالْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَجَعَلَنَا وَإِيَّاكُمْ مِنَ الطَّالِبِينَ بِثَارِهِ مَعَ وَلِيِّهِ الْإِمَامِ الْمَهْدِيِّ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ اللہ تعالیٰ امام حسین علیہ السلام کی مصیبت پر ہمارے اور آپ کے اجر کو عظیم قرار دے اور ہمیں امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ساتھ ان کے خون کے انتقام کا طالب قرار دے۔

مصائبِ کربلا کا تذکرہ

روایات میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر علیہما السلام کی ملاقات کے موقع پر بھی آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مصائب کا ذکر ہوا اور دونوں ان مصائب کو سن کر رو پڑے۔ اسی طرح حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے حضرت ابن عباسؓ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے املا سے لکھی ہوئی ایک تحریر پڑھ کر سنائی جس میں واقعۂ کربلا، شہادتِ امام حسین علیہ السلام اور ان کے انصار کا ذکر تھا، جسے سن کر خود امیرالمؤمنین علیہ السلام بھی روئے اور ابن عباسؓ بھی گریہ کرنے لگے۔

توحید کی تلاوت: اس دن سورۂ توحید ایک ہزار مرتبہ پڑھنے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ روایت کے مطابق جو شخص ایسا کرے اللہ تعالیٰ اس پر نظرِ رحمت فرماتا ہے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات کے مطابق عاشورا کے دن روزے کی نیت سے بھوکا پیاسا رہنا مستحب نہیں، بلکہ غم و مصیبت کے اظہار کے طور پر عصر کے بعد سادہ غذا سے افطار کرنا بہتر ہے، جیسے:دودھ، دہی، یا مصیبت زدہ افراد کی معمولی خوراک۔ مزید یہ کہ لذیذ اور پرتکلف کھانوں سے اجتناب کیا جائے۔

عاشورا کو عید یا برکت کا دن قرار دینا

علامہ مجلسیؒ نے بیان کیا ہے کہ بنی امیہ نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عاشورا کو عید اور برکت کا دن بنا لیا تھا۔ انہوں نے اس دن: نئے کپڑے پہننے،اہلِ خانہ پر فراخی کرنے،ذخیرہ اندوزی کرنےاور روزہ رکھنےکو رواج دیا، اور ان اعمال کے فضائل میں متعدد من گھڑت احادیث بھی پھیلائیں۔

تاریخی حقائق اور جعلی روایات

بعض لوگوں نے یہ مشہور کیا کہ عاشورا کے دن:

  1. حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی
  2. حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے نکلے
  3. حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری
  4. یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے دریا شق ہوا

لیکن اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات کے مطابق یہ واقعات عاشورا کے دن پیش نہیں آئے۔ میثم تمارؒ نے پہلے ہی خبر دی تھی کہ بنی امیہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے دن کو برکت کا دن ثابت کرنے کے لیے ایسی روایات گھڑیں گے۔

روزِ عاشورا امام حسین علیہ السلام کی زیارت

  1. صالح بن عقبہ اور سیف بن عمیرہ روایت کرتے ہیں کہ علقمہ بن محمد حضرمی نے کہا: میں نے امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا:
  2. ’’مجھے ایسی دعا سکھائیے جو میں عاشورا کے دن اس وقت پڑھوں جب میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت قریب سے کروں، اور ایسی دعا بھی سکھائیے جو اس وقت پڑھوں جب میں دور دراز علاقے میں ہوں، زیارت کے لیے حاضر نہ ہو سکوں اور اپنے گھر یا اپنے شہر سے ان کی طرف رخ کرکے سلام عرض کروں‘‘۔

    امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:

    ’’اے علقمہ! جب تم دو رکعت نماز پڑھ لو اور دور سے امام حسین علیہ السلام کی طرف سلام کا اشارہ کر لو، تو تکبیر کہنے کے بعد یہ کلمات (یعنی آنے والی زیارت) پڑھو۔ کیونکہ جب تم یہ زیارت پڑھو گے تو تم نے وہی دعا پڑھی ہوگی جو امام حسین علیہ السلام کے زائرین کے لیے فرشتے پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے لیے دس کروڑ (ایک سو ملین) درجات لکھے گا۔

    اور تم ان لوگوں کی مانند ہو جاؤ گے جو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہید ہوئے تھے، یہاں تک کہ تم ان کے درجات میں شریک قرار پاؤ گے، اور تمہاری شناخت بھی انہی شہداء کے گروہ میں ہوگی جو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہید ہوئے۔

    نیز اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ہر نبی اور ہر رسول کی زیارت کا ثواب لکھے گا، اور اسی طرح اس دن سے لے کر اب تک جتنے لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی ہے، ان سب کی زیارت کا ثواب بھی تمہارے نامۂ اعمال میں لکھا جائے گا۔

    پھر فرمایا: یہ الفاظ کہو (اور زیارت عاشورہ مفاتیح الجنا ن یا دیگر زیارت کی کتابوں میں ملاحظہ کیجئے)

  3. اس کے علاوہ ایک اور مشہور روایت جو شیخ ابو جعفر طوسیؒ نے اپنی کتاب مصباح میں یہ روایت نقل کی ہے: محمد بن اسماعیل بن صالح بن بزیع نے، صالح بن عقبہ سے، انہوں نے اپنے والد سےاور انہوں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
  4. ’’جو شخص محرم کے دن عاشورا میں امام حسین بن علی علیہما السلام کی زیارت کرے اور ان کے مزار پر روتا ہوا قیام کرے، وہ جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اسے دو ہزار حج، دو ہزار عمرے اور دو ہزار جہاد کا ثواب عطا کیا جائے گا؛ ایسا ثواب جیسے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمۂ راشدین علیہم السلام کے ساتھ حج، عمرہ اور جہاد انجام دیا ہو‘‘۔

    راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: میں آپ علیہ السلام پر قربان جاؤں! جو شخص دور دراز علاقوں اور ملکوں میں ہو اور اس دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے کربلا نہ جا سکے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟

    امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: اگر ایسا ہو تو وہ کسی کھلے میدان میں نکل جائے یا اپنے گھر کی کسی بلند جگہ یا چھت پر چڑھ جائے، پھر امام حسین علیہ السلام کی طرف رخ کرکے سلام عرض کرے، اور ان کے قاتلوں پر لعنت و نفرین کرنے میں کوشش کرے۔ اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے۔ یہ عمل دن کے ابتدائی حصے میں، زوالِ آفتاب سے پہلے انجام دے۔

    پھر امام حسین علیہ السلام کے مصائب بیان کرے، ان پر گریہ کرے اور اپنے گھر والوں میں سے جن سے تقیہ کا خوف نہ ہو انہیں بھی ان پر رونے کی ترغیب دے۔

    اپنے گھر میں مجلسِ مصیبت برپا کرے اور امام حسین علیہ السلام کے غم میں جزع و فزع اور سوگواری کا اظہار کرے۔ نیز ایک دوسرے کو امام حسین علیہ السلام کی مصیبت پر تعزیت پیش کریں۔ اگر وہ یہ تمام اعمال انجام دیں تو میں ان کے لیے ضامن ہوں۔

    راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: میں آپ علیہ السلام پر قربان جاؤں! کیا واقعی آپ علیہ السلام ان کے لیے ضامن اور ذمہ دار ہیں؟

    امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: ہاں، میں ضامن ہوں اور میں ہی اس کا ذمہ دار ہوں جو یہ اعمال انجام دے۔

Gides © 2026 web developtment by GIYF Team | Rights Reserved