Articles

Martyrdom of Imam Jaffer-e-Sadiq (as)


By Sheikh Ghulam Mehdi Hakimi
Date : Monday 13 Apr 2026

جنت البقیع، مدینہ
لقب
الصادق
والد
امام محمد باقر علیہ السلام
والدہ
بی بی اُم فروہ علیہا السلام
تاریخِ پیدائش
۱۷ ربیع الاول
جائے پیدائش
مدینہ منورہ
شہادت
۲۵ شوال
زوجہ
بی بی فاطمہ بنت الحسین علیہ السلام
مدفن
جنت البقیع

ابتدائیہ

امام صادق علیہ السلام کی ولادت ۱۷ ربیع الاول ۸۳ ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور ۲۵ شوال ۱۴۸ ہجری میں شہید ہوئے، اس طرح آپ علیہ السلام کی عمر ۶۶ سال تھی۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے ۱۲ سال اپنے جد بزرگوار کے زیر سایہ گزارے جبکہ ۱۹ سال اپنے والد محترم کے ساتھ زندگی کی اور ۳۴ سال خود ان کا دور امامت رہا ہے۔ ان کی امامت، خلافت ہشام بن عبد الملک، ولید بن یزید بن عبد الملک، یزید بن ولید بن عبد الملک معروف بہ ناقص، ابراہیم بن ولید اور مروان حمار کے ہم عصر قرار پائی جس کے بعد خلافت بنو امیہ کے ہاتھ سے نکل کر بنو عباس کے ہاتھ لگ گئی جن کے عباس سفاح کے بعد منصور دوانیقی کے عصر کو بھی امام علیہ السلام نے دیکھا اور آخر میں اسی منصور دوانیقی کے زہر جِفا سے امام علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی، جس کے بعد امام علیہ السلام کو مدینہ میں اپنے آباء و اجداد کے ساتھ قبرستان بقیع میں دفنایا گیا1

فتنہ کے دور میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی روش و انداز

اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آياتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ إِنْ كانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ2 اللہ ہی وہ ذات ہے کہ جس نے ان پڑھ لوگوں میں سے ایک پیغمبر کا انتخاب کیا جو ان کو قرآن کی تلاوت سناتا، اور قرآن و حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔

مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالی بعثت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہدف، لوگوں کا تزکیہ اور ان کی تعلیم بتاتا ہے اور یقینا یہی ہدف ان کے جانشینوں کا بھی تھا لیکن جب جب خلافت اہلبییت ِپیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چھین لی گئی تو اہلبیت علیہم السلام کو معاشرے سے دور رکھا گیا جس کے نتیجے میں مسلمانان ِعالم علمی اور عملی تربیت سے محروم ہوتے گئے لیکن جب بنو امیہ اور بنو عباس میں خلافت کی کشمکش چلی تو اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امام باقر علیہ السلام نے کچھ مدت اور پھر امام صادق علیہ السلام نے کھل کر، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہدف یعنی معاشرے کی تربیت و تعلیم پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے ایک وسیع اسلامی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا، جس میں علوم عقلی اور نقلی کے مختلف شعبوں کی کلاسیں ہوتی جس میں ہشام بن حکم، محمدبن مسلم، أبان بن تغلب، ہشام بن سالم، مفضل بن عمر، جابربن حیان... جیسے شاگردوں کی تربیت کی جن کی تعداد تقریبا چار ہزار نفر کی تھیں۔

امام صادق علیہ السلام کے دور میں مختلف مکاتب فکری اور حقیقی اسلام کا دفاع

امام صادق علیہ السلام کے دور میں مختلف مذہبی فرقے (معتزلة، جبریة، مرجئة، غلات) معرض وجود میں آچکے تھے۔ جو اپنے مذہبی انحرافات کی پرچار کے ساتھ ساتھ شبہات اور اشکالات کے ذریعے لوگوں کے عقائد کو خراب کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ امام صادق علیہ السلام نے ان تمام مکاتب فکری کرنے کے علاوہ، حقیقی اسلام کا دفاع اور ترویج بھی کی جس کے لیے مراکز علمی میں ہر شعبے کے باصلاحیت افراد کی تربیت کے ذریعے مذہب کا ابلاغ اور مناظروں کی شکل میں اس کا دفاع کیا۔3

مثلا امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام کے دور میں غالیوں کی فعالیت اپنے عروج پر تھی، وہ غلو کے ذریعے، آئمہ علیہم السلام کے لیے مقام ربوبیت کے قائل تھے ایسے میں امام صادق علیہ السلام نے شدت سے غلو کا انکار اور لوگوں کو ان کی ہم نشینی سے منع فرمایا اور ان کو کافر و مشرک جانتے تھےاسی لیے شیعوں کو ان سے ہاتھ تک ملانے سے منع فرماتے تھے4۔ چنانچہ امام صادق علیہ السلام نے شیعہ جوانوں کو اس انحرافی فکر سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا: ہوشیار رہیں کہ کہیں غالی تمہارے جوانوں کو خراب نہ کریں۔ وہ خدا کے بدترین دشمن ہیں جو خدا کی عظمت کو گھٹاتے ہیں اور بندگان خدا کے لیے ربوبیت کے قائل ہوتے ہیں5۔ اسی طرح جب ابو حنیفہ نے قیاس کا بازار گرم کیا تو اس کو اس انحرافی فکر سے باز رکھنے کے لیے کئی دفعہ اس نظریے پر خط بطلان کھینچا۔ امام علیہ السلام کو اللہ تعالی نے یہ سنہری موقع فراہم کیا کہ وہ حقیقی اسلام جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیرالمومنین علیہ السلام سے ہوتے ہوئے امام صادق علیہ السلام تک پہنچا تھا۔ اس کے تمام پہلوؤں پر کھل کر بحث کر سکے اور اس کے فقہی خدوخال کو بھی روشن کرے یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے مذہب کو ان سے نسبت ہو گئی اور فقہ جعفری کہا جانے لگا۔

فقہ جعفریہ کے امتیازات

ہم یہاں پرمختصرافقہ جعفریہ کے امتیازات بیان کرتے ہیں:

  1. امام صادق علیہ السلام کی فقہ، فقط ان کی نہیں بلکہ تمام آئمہ علیہم السلام کی فقہ کا مجموعہ ہے یعنی امام صادق علیہ السلام فقہ جعفری کے موسس نہیں بلکہ مجدد ہیں۔
  2. امام جعفر صادق علیہ السلام باقی فقیہوں کی طرح کے مجتہد نہیں تھے جو علوم کسبی اور ظنی کے مالک ہوں بلکہ وہ علمِ لدنی کے مالک تھے، جو ہونے والے واقعات کو بیان فرماتے تھے۔
  3. اہل بیت علیہم السلام سے تمسک، فقط ان کی ذاتی صلاحیت کی بنا پر نہیں بلکہ وصیت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بنا پر ہوتا ہے، جو حدیث ثقلین سے ثابت ہے۔
  4. امام صادق علیہ السلام، امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے استاد تھے اور استاد کے ہوتے ہوئے شاگرد کی پیروی خلاف عقل ہے۔
  5. فقہ جعفریہ کا مدرک، قرآن، عقل، سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام ہے، جن کو اللہ نے مفسران قرآن بنا کر بھیجا۔
  6. فقہ جعفری میں قیاس کی ضرورت اس لیے بھی نہیں کہ ہر نئے درپیش مسائل کے لئے ہر دور میں ایک معصوم ہوتا ہے جو اس کا حل بتاتا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کی اس وصیت

ہم مقالے کا اختتام، امام جعفر صادق علیہ السلام کی اس وصیت پر کرتے ہیں جو آپ علیہ السلام نے اپنے شیعوں کے نام کی اور فرمایا:

إِنَّهُ لاَ یَنَالُ شَفَاعَتَنَا مَنِ اسْتَخَفَّ بِالصَّلاَةِ6 ہماری شفاعت اس شخص کو نصیب نہیں ہو گی جو نماز کو اہمیت نہ دیتا ہو

اللہ تعالی ہم سب کو نماز گزار بننے اور نماز گزاروں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


حوالہ

1صدوق، الاعتقادات، ۱۴۱۳ق، ص۹۸
2سورہِ جمعہ، آیت نمبر۲
3سیرۃ پیشوایان /۳۵۵
4رجال الکشی، ۱۴۰۹ق، ص۳۰۰
5شیخ طوسی، امالی، ۱۴۱۴ق، ص۶۵۰
6الکافى، ج3، ص ۲۷۰

Gides © 2026 web developtment by GIYF Team | Rights Reserved