Articles

Birth Anniversary of Lady Fatima Zehra (sa)


By Maulana Ali Asghar Hidayati Najafi
Date : Tuesday 23 Dec 2025

جنت البقیع، مدینہ
لقب
اُم ابیھا
والد
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
والدہ
بی بی خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا
تاریخِ پیدائش
۲۰ جمادی الثانی
جائے پیدائش
مکہ
شہادت
۱۳ جمادی الاول
شوہر
امام علی علیہ السلام
مدفن
مدینہ (آپ کی قبر پوشیدہ ہے)

جن کی محبت میں کائنات اور اس کا نظام خلق ہوا:

پروردگارِ عالم نے کچھ ہستیوں کی محبت میں اس کائنات کو خلق کیاکہ جن کے نور کی شعاعوں سے آفتاب کو روشنی بخشی اور پھر سورج نے اپنے طلوع اور غروب کے سفر کا آغاز کیا کہ دن گزرتے رہے کہ مہینہ ہوا ، مہینوں کے گزرنے سے سال اور پھر صدیاں بنتی رہی کہ سورج کے اس سفر کے ساتھ زمانہ گزرتا رہا اورگزرتے زمانے کے ساتھ ساتھ آفتابِ فلک ہمارے پیارے نبی حضرتِ مصطفیٰﷺ اور امامِ علی مرتضیٰ(ع) کی زیارت سے بھی مشرّف ہوا اور ان ہستیوں کی زیارت کرتے ہوئے یوں بعثت کے چار سال بھی گزر گئے اور پھر پانچویں سال کی ۲۰ جمادی الثانی کو خورشیدِسما، آگوشِ حضرتِ مصطفیٰﷺ میں ایک شہزادی کی زیارت سے بھی مشرّف ہوا۔ وہ روز ،روزِ جمعہ تھایعنی تمام دنوں سے افضل دن میں اس بی بی(سلام اللہ علیھا)کی آمد ہوئی جو بعد رسولﷺ اور علی(علیہ السلام)سب سے افضل ہیں جب کہ وہ بی بی(سلام اللہ علیھا)نہ نبوّت کے درجے پر فائز ہیں نہ امامت کی منزلت پر ہیں لیکن خدا کی وہ حجّت ہیں کہ امامت کے گیارہویں تاجدار حضرتِ امامِ عسکری(علیہ السلام) فرماتے ہوئے نظر آئے کہ

نَحْنُ حُجَجُ اللّٰهِ عَلَى الْخَلَائِقِ وَأُمُّنَا فَاطِمَةٌ حُجَّةٌ اللّٰهِ عَلَيْنَا

ہم مخلوقات پر اللہ کی حجت ہیں اور ہماری مادرِ گرامی حضرتِ فاطمہ(سلام اللہ علیھا)ہم پر اللہ کی حجّت ہیں۔1

القابات اور خطابات سیدہ کونین:

یہ شہزادی(سلام اللہ علیھا)نبوّت اور امامت کے درمیان عصمت کی ایک ایسی مضبوط کڑی ہیں کہ ختمی مرتبتﷺ نے شہزادی کو مختلف القابات سے یاد کیا کہ کبھی مرضیہ تو کبھی محدثہ فرمایا، کبھی اپنا ٹکڑا یعنی بَضْعَةٌ مِّنِّي سے یاد کیااور جب مسلمانوں کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہا کہ شہزادی کونین، رسالت پر شفیق ہیں تو أُمِّ أَبِیْھَا کہہ کر سیدہ(سلام اللہ علیھا)کو پکارا۔

نگاہِ سید المرسلین و سید الاولیاء علیہم السلام میں احترام و مقام سیدہ عالم:

یہ وہ ملکۂ عصمت ہیں کہ جن کے احترام میں نبوّت کھڑی ہوجائے۔ جی قارئینِ کرام کتاب القطرة میں علامۂ سیدِ احمدِ مستنبطؒ روایت رقم کرتے ہیں کہ جب مولاعلی(علیہ السلام)حجرۂ حضرتِ فاطمۂ زہرا(سلام اللہ علیھا) سے باہر تشریف لا رہے تھے تو راوی نے مولا کائنات (علیہ السلام) کی کیفیت کو کچھ اس طرح بیان کیا ،کہ وہ کہتا ہے۔

رَجَعَ الْقَھَقَرَی

حضرتِ علی(علیہ السلام)الٹے قدم چلتے ہوئے (حجرۂ سیدہ سے)پلٹے۔

اور اسی روایت میں جنابِ سیدہ(سلام اللہ علیھا) نے خود اپنے چاہنے والوں کے لیے بیان کیا ہے کہ کس طرح سے نورِ جنابِ سیدہ(سلام اللہ علیھا)اس کرّۂ ارض پر تشریف لائیں۔

جنابِ سلمانِ محمّدی(فارسی) کہتے ہیں کہ عمّارِ یاسر نے مجھے بتایا کہ ”ایک روز میں نے مولائے کائنات(علیہ السلام) کو جنابِ زہرا(سلام اللہ علیھا) کے حجرے میں جاتے ہوئے دیکھا اور جیسے ہی جنابِ سیدہ(سلام اللہ علیھا) کی نظر مولائے کائنات پر پڑی تو دخترِ رسولﷺ نے فرمایاکہ

اُدْنُ لِأُحَدِّثَكَ بِمَا كَانَ وَ بِمَا هُوَ كَائِنٌ وَ بِمَا لَمْ يَكُنْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حِينَ تَقُومُ السَّاعَةُ

میرے پاس آئیں تاکہ میں آپ(ع)کو (زمانۂ ماضی میں) جو ہوچکا اور اس کے کرنے والے اور قیامت تک جو نہیں ہوگااس کے بارے میں بتاؤں۔

پھر جنابِ عمّار ِ یاسر کہتے ہیں کہ ”میں نے دیکھا مولاعلی(علیہ السلام)حجرۂ جنابِ زہرا(سلام اللہ علیھا)سے الٹے قدم باہر تشریف لائےاور جب نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے توختمی مرتبتﷺ نے مولاعلی(علیہ السلام)کو پاس بلایا، تو اللہ کے افضل نبیﷺ کے پاس اللہ کےافضل ولی جنابِ علی(علیہ السلام)تشریف فرما ہوگئے، پھر رسولِ کریمﷺ نے فرمایاکہ

تُحَدِّثُنِي أَمْ أُحَدِّثُكَ

آپ بات کریں گے یا میں بات کروں؟

جواب میں مولائے کُل نے (رسولﷺ کی تعظیم کرتے ہوئے) فرمایاکہ

اَلْحَدِيثُ مِنْكَ أَحْسَنُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ

اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺزیادہ اچھی بات کرتے ہیں۔

یہ سنتے ہی رسولِ خداﷺنے فرمایا کہ

كَأَنِّي بِكَ وَ قَدْ دَخَلْتَ عَلَى فَاطِمَةَ وَ قَالَتْ لَكَ كَيْتَ وَ كَيْتَ فَرَجَعْتَ

گویا میں آپ(علیہ السلام) کو دیکھ رہا تھا کہ آپ(علیہ السلام) جنابِ فاطمہ(سلام اللہ علیھا)کے پاس گئے تھے اور انہوں نے آپ(علیہ السلام)سے ایسا ایسا کہا تو آپ (علیہ السلام) وہاں سے پلٹ آئے۔

اب صاحبِ منبرِ سلونی نے رسولِ عربیﷺ سے سوال کیا کہ

نُورُ فَاطِمَةَ مِنْ نُورِنَا؟

جواب میں رسول ِ خداﷺنے فرمایا کہ

نُورُ فَاطِمَةَ مِنْ نُورِنَا؟

کیا آپ کو نہیں معلوم؟

جنابِ عمّار کہتے ہیں کہ” یہ سنتے ہی امامِ علی مرتضیٰ(علیہ السلام)نے سجدہ کیااور اب امامِ دوجہاں پھر سے حجرۂ سیدہ(سلام اللہ علیھا)میں داخل ہوئےتو خاتونِ جنّت نے فرمایاکہ

كَأَنَّكَ رَجَعْتَ إِلَى أَبِي صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فَأَخْبَرْتَهُ بِمَا قُلْتُهُ لَكَ

گویا میں دیکھ رہی تھی کہ آپ(علیہ السلام)میرے بابا(حضرتِ محمدﷺ) کے پاس پلٹے تھےاور میں نے جو آپ(علیہ السلام)سے کہا تھا ،آپ(علیہ السلام)نے میرے باباﷺ کو بتایا۔

مولاعلی(علیہ السلام) نے فرمایا ”اے فاطمہ(سلام اللہ علیھا)!آپ(علیہ السلام)نے بلکل ٹھیک کہا، ایسا ہی تھا“۔تو جنابِ زہرا(سلام اللہ علیھا)نےمولائے کائنات(علیہ السلام)سے فرمایا کہ

يَا أَبَا الْحَسَنِ أَنَّ اللّٰهَ تَعَالَى خَلَقَ نُورِي وَ كَانَ يُسَبِّحُ اللّٰهَ جَلَّ جَلاَلُهُ

اے ابا الحسن(کنیتِ امام علی (علیہ السلام) اللہ نے مجھےحقیقت میں اپنے نور سے خلق کیا ہےکہ وہ تسبیح خدا میں مشغول رہتا تھا۔

ثُمَّ أَوْدَعَهُ شَجَرَةً مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ فَأَضَاءَتْ

پھر اس نور کو جنّت کے ایک درخت میں رکھ دیا تو وہ درخت جگمگا اٹھا۔

فَلَمَّا دَخَلَ أَبِي الْجَنَّةَ أَوْحَى اللّٰهُ تَعَالَى إِلَيْهِ إِلْهَاماً أَنِ اِقْتَطِفِ الثَّمَرَةَ مِنْ تِلْكَ الشَّجَرَةِ وَ أَدِرْهَا فِي لَهَوَاتِكَ فَفَعَلَ

پھر جب میرے باباﷺ جنّت میں شرفیاب ہوئے تو اللہ نے انہیں وحی کی کہ وہ اس درخت کے ایک پھل کو توڑ کرکے کھائیں، پس انہوں نے ایسا ہی کیا

فَأَوْدَعَنِي اللّٰهُ سُبْحَانَهُ صُلْبَ أَبِي صَلىّٰ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ ثُمَّ أَوْدَعَنِي خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ فَوَضَعَتْنِي

نتیجتاً اللہ نے مجھے اپنے باباﷺ کےصلب میں اتار دیا پھر مجھے جنابِ خدیجہ بنتِ خویلد(سلام اللہ علیھا)میں رکھا۔

وَ أَنَا مِنْ ذَلِكَ النُّورِ أَعْلَمُ مَا كَانَ وَ مَا يَكُونُ وَ مَا لَمْ يَكُنْ يَا أَبَا الْحَسَنِ

میں اسی نور (نورِ الہٰی)سے ہوں کہ جو ہوچکا ،جو ہونے والا ہے اور جو قیامت تک نہیں ہوگا مجھےسب کے بارے علم ہے۔ 2

مخدومہ کونین کا تحفہ امت محمّدیﷺ کے لیے:

آخرمیں اس تحریر میں مخدومہ کونین حضرتِ فاطمۂ زہرا(سلام اللہ علیھا) کا وہ تحفہ آپ قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جو جنابِ سلمانِ محمّدی کو شہزادی نے دیا تھا علامۂ مجلسی اپنی کتاب بحار الانوار میں لکھتے ہیں کہ ، حورانِ جنّت کچھ کھجوریں لے کر کے خدمت ِ جنابِ زہرا(سلام اللہ علیھا) میں حاضر ہوئی تھی اور ان خوشبودار کھجوروں میں سے کچھ کھجوریں بی بی(سلام اللہ علیھا) نے جنابِ سلمان کو عطا کیں اور پھر شہرِ مدینۂ منورہ میں جنابِ سلمان جس سے ملاقات کرتے تو وہ یہ ہی سوال کرتا کہ کیا تمہارے پاس خالص مشک ہے؟اور جب انہوں نے ان کھجوروں کو تناول کیا تو ان میں گٹھلی نہیں تھی پھر جب یہ بات جنابِ سلمان نے شہزادی(سلام اللہ علیھا)کو بیان کی تو بی بی(سلام اللہ علیھا) مسکرائی اور فرمایاکہ

يَا سَلْمَانُ مِنْ أَيْنَ يَكُونُ لَهُ نَوًى اے سلمان! ان میں کہاں سے گٹھلی ہوگی۔ نیز فرمایا کہ وَ إِنَّمَا هُوَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَهُ لِي تَحْتَ عَرْشِهِ بِدَعَوَاتٍ كَانَ عَلَّمَنِيهَا اَلنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ یہ تو وہ کھجوریں ہیں جنہیں پروردگار نے میرے لیے تحتِ عرش اس دعا کے عوض خلق کیاہے جو مجھے نبی کریمﷺ نے سکھائی تھیں۔ پس جب جنابِ سلمانِ محمّدی نے اس دعا کو سیکھنے کی خواہش کی تو شہزادی(سلام اللہ علیھا)نے فرمایا کہ إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَلْقَى اَللَّهَ وَ هُوَ عَنْكَ غَيْرُ غَضْبَانَ فَوَاظِبْ عَلَى هَذَا اَلدُّعَاءِ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرو کہ وہ تم سے غضب ناک نہ ہو تو اس دعا کی پاندی کرو۔ اور وہ دعا یہ ہے : بِسْمِ اللهِ النُّورِ بِسْمِ اللّهِ الَّذِي يَقُولُ لِلشَّيْءِ كُنْ فَيَكُونُ بِسْمِ اللّهِ الَّذِي يَعْلَمُ خٰائِنَةَ اَلْأَعْيُنِ وَ مٰا تُخْفِي اَلصُّدُورُ بِسْمِ اللّهِ الَّذِي خَلَقَ النُّورَ مِنَ النُّورِ بِسْمِ اللّهِ الَّذِي هُوَ بِالْمَعْرُوفِ مَذْكُورٌ بِسْمِ اللّهِ الَّذِي أَنْزَلَ النُّورَ عَلَى الطُّورِ بِقَدَرٍ مَقْدُورٍ فِي كِتَابٍ مَسْطُورٍ عَلَى نَبِيٍّ مَحْبُورٍ3

آخر میں تمام مومنین اور مومنات بالخصوص ہمارے وقت کے امام حضرتِ مہدی صاحبِ الزمان عج کی بارگاہِ امامت میں ان کی جدۂ ماجدہ، صدیقۂ کبریٰ سلام اللہ علیھا،

حضرتِ فاطمۂ زہرا(سلام اللہ علیھا) کی آمدِ پر نور کی تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں۔

کی آمدِ پر نور کی تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں۔

وَصَلَّى اَللَّهُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ اَلطَّيِّبِينَ اَلطَّاهِرِينَ

حوالہ

1اسرار الفاطميہ،شيخِ محمدِ فاضل،ص
2القطرہ، علامۂ سید احمد مستنبط، ج۱
3بحارالانوار، مجلسیؒ،ج۹۱،ص۲۲۶

Gides © 2026 web developtment by GIYF Team | Rights Reserved